پیر، 26 اکتوبر، 2020

Practice Post in PSDF Class

 

Here is my Title of this Post

jlksfdsaf lkdsa f jfdsa f;dsa jf;lkjdsa fjdsa jdsaf;lkdsa  fdsa fdsa jf; lkdsa j f;dsaf jlk;dsa f; lkas d;f a;ds f;lkdsa j; lkfjdsa fjdsa jf;lkdsa jf;lkas jd fjdsa jf;lkdsa jf; lksad fjdsa flkasd jfa sdf dsa flkads jf; lksa jd fjas;df j;sad j;fsad fja;lkd flkdsa fljdsajdsajf lkdsa jf lkasd j flkads j lkfsd jfds jfksad jf; dsa j;fdsaf jlkasd jflkdsa j fdsafjlkds



جمعرات، 23 اپریل، 2020

وزیراعظم عمران خان کے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ آگئی


وزیراعظم عمران خان کا کورونا ٹیسٹ منفی آگیا، وزیراعظم عمران خان کا گزشتہ روز کورونا کا ٹیسٹ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ایدھی فاو¿نڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کا گزشتہ روز کورونا ٹیسٹ مثبت آ یا ،انہوں نے چند روز قبل اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی اورانہیں کورونا ریلیف فنڈ کیلئے ایک کروڑ روپے کا چیک بھی دیا تھا۔فیصل ایدھی نے ڈاکٹروں کی ہدایت پر آئیسولیشن اختیار کرلی ، تاہم وہ اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے فیصل ایدھی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد وٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیاتھا،جس پر گزشتہ روز وزیراعظم کے سیمپل لے لئے گئے تھے،وزیراعظم عمران خان کا کورونا ٹیسٹ منفی آگیا۔


پاکستان میں جاری لاک ڈاؤن مذاق،حکمرانوں نے غلط فیصلے اور علما نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ،کراچی میں ڈاکٹرز پھٹ پڑے


کراچی کے ڈاکٹرز نے ملک بھر میں سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا صحت کا نظام بہت کمزور ہے، اگر مریضوں کی تعداد بڑھی تومشکلات میں اضافہ ہوگا، علما سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہیں کہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں، کورونا وائرس پر حکمرانوں نے غلط فیصلےاور علما نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ۔

نجی ٹی وی کے مطابق کراچی پریس کلب میں میڈیا بریفنگ کے دوران انڈس ہسپتال کے ڈاکٹر عبدالباری، ڈاکٹر سعد نیاز، ڈاکٹر صدیقی اور ڈاکٹر قیصر سجاد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کرونا کا ان پر اثر نہیں ہوگا،کرونا جس تیزی سے بڑھ رہا ہے ایسا نہ ہو کہ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ جائے اور ہمیں سڑکوں اور گھروں میں علاج کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ دو سے چار ہفتوں میں کرونا بڑی تیزی سے بڑھے گا

ملک میں کورونا کیسز سامنے آنے پر لاک ڈاون کیا گیا تو علما نے بھی بھرپور تعاون کیا،اب رمضان المبارک قریب آنے پر مساجد کھولنے پر زور دیا گیا ہے جبکہ ملک میں کورونا کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ڈاکٹر سعد نیاز نے کہا کہ کورونا وائرس کو جتنا سمجھا جارہا ہے، مسئلہ اس سے زیادہ سنگین ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 60 سال سے کم عمر کے مریض مغربی ملکوں سے زیادہ آرہے ہیں، اگر کورونا بڑھا تو مریضوں کو رکھنے کے لیے ہسپتال میں بستر دستیاب نہیں ہوں گے۔ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ لاک ڈاون نرم ہوتے ہی کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ لاک ڈاون سخت کیا جائے، کاروباری حضرات اس حوالے سے تعاون کریں۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ پاکستان میں جو لاک ڈاون جاری ہے وہ مذاق ہے، پورے ملک کے ڈاکٹرز پریشان ہیں کہ 2 دن بعد کیا ہوگا؟۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا صحت کا نظام انتہائی کمزور ہے، حکمرانوں نے غلط فیصلے کیے جبکہ علما نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، یہ لڑائی کورونا اور ڈاکٹرز کی ہے۔


اتوار، 19 اپریل، 2020

آئندہ ماہ پٹرول کی قیمت کتنے روپے کم ہو سکتی ہے ؟ 10 یا 20 روپے نہیں بلکہ



ورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کے اثرات دنیا کی معیشتوں پر بھی دکھائی دیئے اور یہ مسلسل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بھی متاثر کر رہاہے
تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے باعث بیشترممالک میں لاک ڈاﺅن ہے اور آمدو رفت پر قسم کی پابندی ہے جس کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی کھپت نہایت کم سطح پر آ گئی ہے جبکہ اس کی قیمت بھی مسلسل گرتی دکھائی دیتی ہے ۔
پاکستانیوں کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ اگلے ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریبا 31 روپے تک کمی واقع ہو نے کا امکان ہے ۔ نجی اخبار جنگ نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ پٹرول کی قیمت میں 22 روپے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 31 روپے تک کمی کی جا سکتی ہے ۔
انڈسٹری ذرائع کا کہناہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں واضح کمی کے سبب ملک میں بھی کمی کی جا سکتی ہے ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کچھ دن قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میںکمی کے باعث ملک میں بھی کمی ہو گی ۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا وائرس کے پیش نظر ہونے والی مہنگائی اور حالات کو دیکھتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں کمی کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یاد رہے کہ  کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے ،گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں پاکستان میں 514 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد مجموعی تعداد 7 ہزار 993 ہو گئی ہے ۔
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مجموعی طور 7 ہزار 847 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں مزید 514 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جنہیں ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیاہے جبکہ اس کے علاوہ 16 مزید افراد جان کی بازی ہار گئے ، اموات 159 ہو گئی ہیں ۔
کورورنا وائرس سے اب تک ملک بھر میں 1868 افراد صحت یاب ہونے کے بعد گھروں کو لوٹ گئے ہیں جبکہ متعدد کا ہسپتال میں علاج جاری ہے جوکہ جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گے ۔
 کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب ہے جہاں اب تک 3 ہزار 649 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے ، سندھ میں 2355 ، کے پی کے میں 1137 ، بلوچستان میں 376 ، اسلام آباد میں 171 ، آزاد کشمیر 48اور گلگت بلتستان میں 257 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔

جمعہ، 17 اپریل، 2020

پاکستان سمیت 76ممالک کا 40ارب ڈالر قرض منجمد،قرضے ایک سال کیلئے موخر، آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 138کروڑ ڈالر کی بھی منظوری دیدی



عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سمیت 76 ممالک کے 40 ارب ڈالرز کے قرض ایک سال کیلئے منجمد کر دیئے، جبکہ واشنگٹن میں ہونے والے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کیلئے 138کروڑ ڈالر اضافی قرضے کی بھی منظوری دے دی گئی، آئی ایم ایف کے مطابق اس قرضے سے پاکستان اپنی معیشت کی بہتری،کرونا وباء پر قابو پانے اور بیرونی ادائیگیوں کیلئے استعمال کریگا۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو رواں سال 40 ارب ڈالرز کے قرضے واپس کرنے ہیں لیکن کورونا وائرس کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک نے آئی ایم ایف سے قرضے منجمد کرنے کی درخواست کی ہے۔عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ جی 20 ممالک یہ قرضے ایک سال کے لیے منجمد کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں، 40 ارب ڈالرز میں سے 20 ارب ڈالرز کے قرضے سعودی عرب منجمد کرے گا۔آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان سمیت 76 ممالک اس سہولت کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، قرضے منجمد کرنے کا مقصد متاثر ممالک کو صحت و معاشی مسائل میں مدد دینا ہے،۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس بارے میں اعلان سعودی وزیر خزانہ محمد الجدان نے دیگر رکن ملکوں کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کے ساتھ مشاورت کے بعد ریاض میں کیا۔ جی ٹوئنٹی نے غریب ملکوں کو کووڈ انیس کی وبا سے نمٹنے کے لیے بیس بلین ڈالر فراہم کرنے کا بھی کہا۔ اس پیش رفت سے دنیا کے غریب ترین 76 ممالک مستفید ہو سکیں گے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک غریب ممالک کے لیے قرضوں کی ادائیگی میں رعایت کا مطالبہ کرتے آئے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ریلیف سے پاکستان کے 12ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی مؤخر ہوگی۔ پاکستان کے ذمے آٓئی ایم ایف،عالمی بینک، اے ڈی بی، اسلامی ترقیاتی بینک اور پیرس کلب کے تقریباً 12 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو رواں سال تقریباً 40 ارب ڈالرز کے قرضے واپس کرنے ہیں لیکن کورونا وائرس کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک نے آئی ایم ایف سے قرضے منجمد کرنے کی درخواست کی تھی۔عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ جی 20 ممالک یہ قرضے ایک سال کے لیے منجمد کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں، 40 ارب ڈالرز میں سے 20 ارب ڈالرز کے قرضے سعودی عرب منجمد کرے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے متعارف کرائی گئی سکیم کے تحت پاکستان کے 12 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی مؤخر ہوگی۔عالمی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ بر اعظم ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اقتصادیات کرونا وائرس کی عالمی وبا سے بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آئی ایم ایف کے ایشیا پیسیفک خطے کے ڈائریکٹر چینگ یونگ ری نے کہاکہ 1960 کی دہائی کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہو سکتا ہے کہ خطے میں اقتصادی نمو کی شرح صفر فیصد رہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال2008 اور2009 کے مالیاتی بحران اور ایشیا میں سامنے آنے والے 1997 اور1998 کے معاشی بحران سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔ چینگ نے بتایا کرونا وائرس اور یورپ اور امریکہ میں کساد بازاری کے اثرات بھی ایشیائی منڈیوں پر منفی انداز میں مرتب ہوں گے۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات میں جی20 ممالک کی جانب سے قرضوں پرریلیف دینے کے اقدامات کو سراہا۔وزیراعظم عمران خان سے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات کی جس میں انہوں نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی جانب سے قرض ریلیف اقدامات کو سراہا۔مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وزیر اعظم کو بتایا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو قرضوں پر ریلیف ملے گا۔مشیرخزانہ نے وزیراعظم کو آئی ایم ایف کی 1ارب40کروڑ ڈالراضافی فنانسگ سے بھی آگاہ کیا۔ملاقات میں مشیرخزانہ نے وزیراعظم کو حکومت کے ریلیف پیکج کے اہم جزویات سے بھی آگاہ کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی کاوشوں کو کامیابی سے نوازا ہے، جی 20 ممالک کے اجلاس میں پاکستان کی تجویز کو زیر غور لاتے ہوئے پاکستان سمیت 76 ترقی پذیر ممالک کو واجب الادا قرضوں میں سہولت فراہم کرنے فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ، ایم ڈی آئی ایم ایف اور عالمی برادری نے اس تجویز پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ جمعرات کو وزیر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وزارت خارجہ میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات کی، پاکستان سمیت 76 ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں ملنے والی سہولت پر تبادلہ خیال کیا گیا،مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کرونا عالمی وبا کے نتیجے میں کمزور معیشتوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے ازالے کیلئے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے کی تجویز دی تھی، اس تجویز کو آگے بڑھانے کیلئے 12 اپریل کو سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور عالمی معاشی اداروں کو خطوط لکھے گئے، ہم نے دنیا بھر میں مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے اور وزیر اعظم عمران خان کی تجویز کو زیرغور لانے کی مسلسل درخواست کرتے رہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ، ایم ڈی آئی ایم ایف اور عالمی برادری نے اس تجویز پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا، جی 20 ممالک کے اجلاس میں پاکستان کی تجویز کو زیر غور لاتے ہوئے پاکستان سمیت 76 ترقی پذیر ممالک کو واجب الادا قرضوں میں سہولت فراہم کرنے فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور جی 20 ممالک کی طرف سے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت اور معاشی معاونت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، موجودہ وبائی چیلنج کو سامنے رکھتے ہوئے، ترقی پذیر ممالک کی معاشی بحالی کیلئے غیر مشروط معاونت فراہم کی جائے،پاکستان نے اپنے محدود معاشی وسائل کے باوجود کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور منفی معاشی اثرات کے ازالے کیلئے موثر اقدامات کئے۔ جمعرات کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وزارت خارجہ میں آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ مس ٹریسا ڈبن ساشیز سے ملاقات کی، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور ڈی جی یو این فرخ اقبال خان بھی اس ملاقات میں شریک تھے، دوران ملاقات کرونا عالمی وبائی چیلنج کی موجودہ صورتحال اور اس سے پیدا ہونے والے معاشی مضمرات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے اپنے محدود معاشی وسائل کے باوجود کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور منفی معاشی اثرات کے ازالے کیلئے موثر اقدامات کئے، موجودہ عالمی وبا نے پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کیا ہے لیکن ترقی پذیر ممالک پر اس وبا کے منفی اثرات انتہائی شدید ہیں، اسی صورت حال کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان نے اس کٹھن گھڑی میں کمزور معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے ترقی پذیر ممالک کے واجب الادا قرضوں میں سہولت فراہم کرنے کی تجویز دی تاکہ یہ ممالک اپنے وسائل کو اس وبا کو روکنے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کیلئے استعمال میں لا سکیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریز نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ترقی پذیر ملکوں کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت دینے کے حوالے سے عالمی اقدام اٹھانے کی اپیل کی حمایت کی ہے۔سرکاری میڈیا کے مطابق نیوریارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈیوجیرک نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی تجویز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اپنے موقف کے عین مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سربراہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ رواں سال کیلئے واجب الادا قرضوں پر سود کی فوری معافی سمیت قرض کی ادائیگی میں سہولت کورونا وائرس سے نمٹنے کی عالمی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہونا چاہیے۔ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام نہایت اہم ہے کہ دنیا کے غریب ترین ممالک کے محدود وسائل قرضوں کی ادائیگی کی نذر ہونے کی بجائے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے استعمال ہونے چاہیں۔آئی ایم ایف نے پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخی سطح تک پہنچ جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، عالمی مالیاتی فنڈ کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ جی ڈی پی کے 9.2فیصد یعنی 40 کھرب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔گزشتہ روز جاری کی جانے والی رپورٹ بعنوان مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیاء ریجنل اکنامک آؤٹ لک کے مطابق کرونا کی وبا سے پہلے بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی کے 7.3فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا جو اب 9.2 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔اعدادوشمار میں خسارے کا حجم 40 کھرب روپے ہے جو پچھلے تخمینے سے 8کھرب روپے زائد ہے، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دے کیوں کہ اس شعبے میں کیے جانے والے اخراجات خطے میں سب سے کم ہیں۔آئی ایم ایف کے مطابق مہنگائی یا افراطِ زر کی شرح رواں برس 11.1فیصد اور آئندہ برس 8فیصد رہے گی۔ وزارت خزانہ کے مطابق ریونیو کو پہنچنے والے دھچکوں کے نتیجے میں خسارے میں اضافہ متوقع ہے کیوں کہ حکومت نے ابھی تک بجٹ اخراجات میں کسی اہم اضافے کا اعلان نہیں کیا ہے۔

لاہور میں 39افراد کو کورونا وائرس منتقل کرنے والے کی تہلکہ خیز کہانی سامنے آگئی

سمن آباد کی کچی آبادی کا ایک رہائشی ’سپر سپریڈر‘ اپنے علاقے کے 39 لوگوں کو کورونا وائرس منتقل کرنے کا سبب بنا ۔اب تک اس علاقے سے کورونا وائرس کے 39 مصدقہ کیس سامنے آ چکے ہیں جبکہ 150 سے زائد افراد کو شبے کی بنیاد پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے
’سپر سپریڈر‘کے بھائی نے بتایا کہ متاثرہ شخص گھر کے پاس ہی ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ وہ وہاں سے ہی کورونا وائرس گھر لے کر آیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً ایک ماہ قبل سلیم فیکٹری سے مزدوی کر کے گھر واپس آتے ہوئے بارش میں بھیگ گیا، جس کے دو دن بعد اس کا گلا خراب ہوا اور کھانسی ہونے لگی۔اگلے روز انہیں بخار بھی ہو گیا۔ ہم انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال لے گئے اور چیک کروایا تو ڈاکٹر نے دوائی دے کر گھر بھیج دیا۔ کچھ دن دوائیں کھانے کے بعد بھی اس کی حالت بگٹرتی جا رہی تھی۔ ہم اسے لے کر دوبارہ ہسپتال گئے تو ہسپتال والوں نے کہا کہ اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ گھر لے جائیں اور وہی دوائی جاری رکھیں جو وہ پہلے کھا رہا ہے۔ فکر نہ کریں ٹھیک ہو جائے گ

متاثرہ شخص کے بھائی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کورونا کی ہیلپ لائن 1033 پر بھی کالز کیں تاہم وہاں سے یہی جواب ملا کہ ہسپتال چلے جائیں۔سلیم ایک ماہ سے کام پر بھی نہیں جا رہا تھا اور ہمارے گھر والے پریشان تھے کہ یہ ٹھیک کیوں نہیں ہو رہا۔ ہم نے اس دوران کئی سرکاری ہسپتالوں کے چکر لگائے، لیکن نہ تو سلیم کا کوئی ٹیسٹ کیا گیا۔ شاید ڈاکٹروں کو بھی پتا نہیں چل رہا تھا کہ اسے کیا بیماری ہے۔ کیونکہ جب بھی ہم اسے ہسپتال لے کر جاتے تو وہ دوائیں دے کر واپس بھیج دیتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تنگ آ کر وہ اپنے بھائی کو نجی ہسپتال لے کر گئے تو وہاں کے ڈاکٹر نے کہا کہ اسے نمونیہ ہے۔ اس تشخیص کے بعد ڈاکٹر نے انہیں کورونا ٹیسٹ کروانے کا کہا۔سلیم کے بھائی کہتے ہیں کہ ’ہم نے ڈاکٹر کو بتایا کہ سرکاری ہسپتال والے کہتے ہیں کہ اس میں کورونا کی علامات نہیں ہیں اور نہ ہی یہ باہر کے ملک سے سفر کر کے آیا ہے۔ جس پر ڈاکٹر نے پرائیوٹ ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا۔ ہم سب بھائیوں نے پیسے جمع کرکے متاثرہ شخص کا آٹھ ہزار روپے دے کر ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد محکمہ صحت والے آئے اور اسے لے کر چلے گئے اور اس وقت سے متاثرہ  شخص لاہور کے میو ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔سلیم کے بھائی کے دعووں کے برعکس ایس پی اقبال ٹاون محمد اجمل نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ شخص اپنی بہن سے ملنے سندھ گئے تھے جہاں وہ کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔محمد اجمل کے مطابق لاہور واپس پہنچنے پر متاثرہ شخص نے کھانسی، زکام اور بخار کی شکایت کی تاہم ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے وہ گھر میں ہی خود سے ادویات کا استعمال کرتے رہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بیماری کے باوجود بھی وہ مقامی لوگوں سے ملتا جلتا رہے جس کی وجہ سے یہ وائرس ان کے گھر والوں سمیت علاقے کے دیگر افراد میں بھی منتقل ہو گیا۔اس حوالے سے متاثرہ شخص کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ سیلم گذشتہ کئی مہینوں سے لاہور سے باہر نہیں گئے ہیں۔ان کے بھائی نے بتایا کہ ’سندھ میں ان کی بہن تو کیا کوئی رشتہ دار نہیں رہتا ہے۔ اس لیے کراچی یا سندھ کے کسی بھی علاقے میں جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘ انہوں نے مزید کہا جہاں تک ہمیں شک ہے تو متاثرہ شخص کو یہ وائرس فیکٹری سے لگا ہے یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بیمار ہونے کے بعدجب وہ ہسپتال اپنا چیک اپ کروانے گیا تو اس وقت وہ کورونا وائرس کا شکار ہوا۔اس چھوٹے سے گھر میں ان کے والدین سمیت چار بھائی اور ان کے بیوی بچے اکھٹےرہتے ہیں۔سلیم کے بھائی نے بتایا کہ ہمارے گھر کے تمام افراد کے کورونا ٹیسٹ کروائے گئے جس میں سے ان سمیت گھر سے تین مرد، چار بچے، ان کی والدہ اور تین خواتین کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہم میں سے بیشتر افراد میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔

حکومت نے ہمیں لاہور کے ایکپسو سینٹر میں رکھا ہوا تھا۔ آٹھ دن وہاں گزارنے کے بعد آج مجھ سمیت ہمارے ہی محلے کے تقریبا 20 لوگوں کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد گھر بھیجا گیا ہے۔متاثرہ شخص کے بھائی نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں وہاں تین ٹائم کھانا دیا جاتا تھا۔ تاہم اس کے علاوہ نہ کوئی دوائی دی گئی اور میرے خیال میں اس کا نہ ہی کوئی علاج ہے بس یہی ہے کہ بیمار بندہ سب سے دور رہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بیماری سے ہمارا پورا گھر بری طرح متاثر ہو ریا ہے کیونکہ بچوں کی مائیں بھی بیمار ہیں۔

ایس پی اقبال ٹاون محمد اجمل اور محکمہ صحت کے مطابق اب تک کے ریکارڈ اور کھوج لگانے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ متاثرہ شخص سے ہی علاقے کے 39 دیگر لوگوں تک یہ وائرس منتقل ہوا ہے۔ایس پی محمد اجمل نے مزید بتایا کہ متاثرہ شخص کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اس کے گھر والوں اور دیگر رشتہ داروں کے نمونے لیے گئے جن میں سے بیشتر افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد ہم نے ساتھ والی گلیوں کے لوگوں کے نمونے اکھٹے کیے تو علاقے کے اور لوگوں میں بھی کورونا وائرس پایا گیا۔ان کا کہنا تھا متاثر ہ شخص کا بھائی جس میں کورونا وائرس موجود تھا وہ بھی لوگوں سے ملتا رہا اور نماز پڑھنے کے لیے مسجد بھی جاتا رہا جہاں وہ کئی افراد سے ملا۔ انھوں نے تصدیق کی کہ اس علاقے کے امام مسجد بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ابھی تک سمن آباد کے علاقے کی اس کالونی میں موجود تقریبا ستر گھروں سمیتہم نے علاقے کی چھ گلیوں کو مکمل سیل کر دیا ہے۔ جبکہ ارد گرد کے رہائشیوں اور کورونا کے مشتبہ افراد کو قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔

ندیم افضل کی آڈیو لیک ہونے کے بعد مشہور ہونے والا ’مختارا‘ سامنے آ گئے


پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ندیم افضل چن کی آڈیو لیک ہونے کے بعد مشہور ہونے والے مختار احمد المعروف مختاریا منظر عام پر آگئے ہیں،مختار احمد کا تعلق حافظ آباد سے ہے جب کہ ان کے چار بیٹے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ میرے اور ندیم افضل چن کے بہت درینہ تعلقات ہیں اور اس طرح کی تکرار ہوتی رہتی ہے لیکن اس دن انہوں نے بہت غصے میں مجھے میسج کیا جس پر میں نے فوری عمل کرتے ہوئے اپنی تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کردی اور گھر چلا گیا۔
مختار احمد کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم میسج کس کی جانب سے لیک کیا گیا تاہم اس کی کھوج لگائی جارہی ہے اور جیسے ہی وہ شخص مل جائے گا اس سے آڑے ہاتھوں نمٹا جائے گا۔انہوں نے کہا جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ آڈیو کال لیک ہوگئی ہے تو مجھے انتہائی غصہ آیا اور میں نے کہا کہ کاش وہ شخص میرے ہاتھ آجائے جس نے یہ کام کیا۔
۔مختار احمد کے مطابق ان کے اور ندیم افضل چن کے 15 سال سے تعلقات ہیں اور وہ ان کی سیاسی سرگرمیاں دیکھتے ہیں،ان کا مزید کہنا ہے کہ میرے دوست میرے نام سے منسوب ویڈیو مجھے بھیجتے رہتے ہیں جنھیں دیکھ کر خوب لطف اندوز ہوتا ہوں،میرے اہلخانہ بھی اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔



مختار احمد نے مزید کہا کہ مجھے مختاراں کہنے کا حق صرف اور صرف ندیم افضل چن صاحب کا ہے لہذا ان کے علاوہ کوئی بھی مجھے اس لقب سے پکارے۔ندیم افضل چند کی محبت اور خلوص کے باعث ان کو مکمل اختیار ہے کہ مجھے جس مرضی نام سے پکار سکتے ہیں۔۔مختار احمد نے بتایا کہ ندیم افضل چن کے میسج کے بعد مجھے کورونا کی سنگینی سمجھ میں آئی اور خود کو اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ 21 دن کے لیے خود کو قرنطینہ کر لیا تاکہ ہم وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افضل چن کی ایک وٹس ایپ ریکارڈنگ سامنے آئی تھی جس میں وہ اپنے کسی دوست کو بتا رہے تھے کہ ہزاروں لوگ کورونا سے مر رہے ہیں اور حکومت بتا نہیں رہی ہے اس لیے سب لوگ بچوں کو لے کر گھروں میں چھپ جاؤ۔ اس دوران انہوں نے اپنے علاقے کی مخصوص زبان میں کچھ ناقابلِ اشاعت الفاظ بھی استعمال کیے تھے۔