جمعہ، 17 اپریل، 2020

پاکستان سمیت 76ممالک کا 40ارب ڈالر قرض منجمد،قرضے ایک سال کیلئے موخر، آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 138کروڑ ڈالر کی بھی منظوری دیدی



عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سمیت 76 ممالک کے 40 ارب ڈالرز کے قرض ایک سال کیلئے منجمد کر دیئے، جبکہ واشنگٹن میں ہونے والے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کیلئے 138کروڑ ڈالر اضافی قرضے کی بھی منظوری دے دی گئی، آئی ایم ایف کے مطابق اس قرضے سے پاکستان اپنی معیشت کی بہتری،کرونا وباء پر قابو پانے اور بیرونی ادائیگیوں کیلئے استعمال کریگا۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو رواں سال 40 ارب ڈالرز کے قرضے واپس کرنے ہیں لیکن کورونا وائرس کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک نے آئی ایم ایف سے قرضے منجمد کرنے کی درخواست کی ہے۔عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ جی 20 ممالک یہ قرضے ایک سال کے لیے منجمد کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں، 40 ارب ڈالرز میں سے 20 ارب ڈالرز کے قرضے سعودی عرب منجمد کرے گا۔آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان سمیت 76 ممالک اس سہولت کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، قرضے منجمد کرنے کا مقصد متاثر ممالک کو صحت و معاشی مسائل میں مدد دینا ہے،۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس بارے میں اعلان سعودی وزیر خزانہ محمد الجدان نے دیگر رکن ملکوں کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کے ساتھ مشاورت کے بعد ریاض میں کیا۔ جی ٹوئنٹی نے غریب ملکوں کو کووڈ انیس کی وبا سے نمٹنے کے لیے بیس بلین ڈالر فراہم کرنے کا بھی کہا۔ اس پیش رفت سے دنیا کے غریب ترین 76 ممالک مستفید ہو سکیں گے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک غریب ممالک کے لیے قرضوں کی ادائیگی میں رعایت کا مطالبہ کرتے آئے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ریلیف سے پاکستان کے 12ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی مؤخر ہوگی۔ پاکستان کے ذمے آٓئی ایم ایف،عالمی بینک، اے ڈی بی، اسلامی ترقیاتی بینک اور پیرس کلب کے تقریباً 12 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو رواں سال تقریباً 40 ارب ڈالرز کے قرضے واپس کرنے ہیں لیکن کورونا وائرس کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک نے آئی ایم ایف سے قرضے منجمد کرنے کی درخواست کی تھی۔عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ جی 20 ممالک یہ قرضے ایک سال کے لیے منجمد کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں، 40 ارب ڈالرز میں سے 20 ارب ڈالرز کے قرضے سعودی عرب منجمد کرے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے متعارف کرائی گئی سکیم کے تحت پاکستان کے 12 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی مؤخر ہوگی۔عالمی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ بر اعظم ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اقتصادیات کرونا وائرس کی عالمی وبا سے بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آئی ایم ایف کے ایشیا پیسیفک خطے کے ڈائریکٹر چینگ یونگ ری نے کہاکہ 1960 کی دہائی کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہو سکتا ہے کہ خطے میں اقتصادی نمو کی شرح صفر فیصد رہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال2008 اور2009 کے مالیاتی بحران اور ایشیا میں سامنے آنے والے 1997 اور1998 کے معاشی بحران سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔ چینگ نے بتایا کرونا وائرس اور یورپ اور امریکہ میں کساد بازاری کے اثرات بھی ایشیائی منڈیوں پر منفی انداز میں مرتب ہوں گے۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات میں جی20 ممالک کی جانب سے قرضوں پرریلیف دینے کے اقدامات کو سراہا۔وزیراعظم عمران خان سے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات کی جس میں انہوں نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی جانب سے قرض ریلیف اقدامات کو سراہا۔مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وزیر اعظم کو بتایا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو قرضوں پر ریلیف ملے گا۔مشیرخزانہ نے وزیراعظم کو آئی ایم ایف کی 1ارب40کروڑ ڈالراضافی فنانسگ سے بھی آگاہ کیا۔ملاقات میں مشیرخزانہ نے وزیراعظم کو حکومت کے ریلیف پیکج کے اہم جزویات سے بھی آگاہ کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی کاوشوں کو کامیابی سے نوازا ہے، جی 20 ممالک کے اجلاس میں پاکستان کی تجویز کو زیر غور لاتے ہوئے پاکستان سمیت 76 ترقی پذیر ممالک کو واجب الادا قرضوں میں سہولت فراہم کرنے فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ، ایم ڈی آئی ایم ایف اور عالمی برادری نے اس تجویز پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ جمعرات کو وزیر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وزارت خارجہ میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات کی، پاکستان سمیت 76 ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں ملنے والی سہولت پر تبادلہ خیال کیا گیا،مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کرونا عالمی وبا کے نتیجے میں کمزور معیشتوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے ازالے کیلئے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے کی تجویز دی تھی، اس تجویز کو آگے بڑھانے کیلئے 12 اپریل کو سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور عالمی معاشی اداروں کو خطوط لکھے گئے، ہم نے دنیا بھر میں مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے اور وزیر اعظم عمران خان کی تجویز کو زیرغور لانے کی مسلسل درخواست کرتے رہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ، ایم ڈی آئی ایم ایف اور عالمی برادری نے اس تجویز پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا، جی 20 ممالک کے اجلاس میں پاکستان کی تجویز کو زیر غور لاتے ہوئے پاکستان سمیت 76 ترقی پذیر ممالک کو واجب الادا قرضوں میں سہولت فراہم کرنے فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور جی 20 ممالک کی طرف سے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت اور معاشی معاونت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، موجودہ وبائی چیلنج کو سامنے رکھتے ہوئے، ترقی پذیر ممالک کی معاشی بحالی کیلئے غیر مشروط معاونت فراہم کی جائے،پاکستان نے اپنے محدود معاشی وسائل کے باوجود کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور منفی معاشی اثرات کے ازالے کیلئے موثر اقدامات کئے۔ جمعرات کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وزارت خارجہ میں آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ مس ٹریسا ڈبن ساشیز سے ملاقات کی، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور ڈی جی یو این فرخ اقبال خان بھی اس ملاقات میں شریک تھے، دوران ملاقات کرونا عالمی وبائی چیلنج کی موجودہ صورتحال اور اس سے پیدا ہونے والے معاشی مضمرات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے اپنے محدود معاشی وسائل کے باوجود کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور منفی معاشی اثرات کے ازالے کیلئے موثر اقدامات کئے، موجودہ عالمی وبا نے پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کیا ہے لیکن ترقی پذیر ممالک پر اس وبا کے منفی اثرات انتہائی شدید ہیں، اسی صورت حال کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان نے اس کٹھن گھڑی میں کمزور معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے ترقی پذیر ممالک کے واجب الادا قرضوں میں سہولت فراہم کرنے کی تجویز دی تاکہ یہ ممالک اپنے وسائل کو اس وبا کو روکنے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کیلئے استعمال میں لا سکیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریز نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ترقی پذیر ملکوں کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت دینے کے حوالے سے عالمی اقدام اٹھانے کی اپیل کی حمایت کی ہے۔سرکاری میڈیا کے مطابق نیوریارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈیوجیرک نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی تجویز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اپنے موقف کے عین مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سربراہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ رواں سال کیلئے واجب الادا قرضوں پر سود کی فوری معافی سمیت قرض کی ادائیگی میں سہولت کورونا وائرس سے نمٹنے کی عالمی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہونا چاہیے۔ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام نہایت اہم ہے کہ دنیا کے غریب ترین ممالک کے محدود وسائل قرضوں کی ادائیگی کی نذر ہونے کی بجائے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے استعمال ہونے چاہیں۔آئی ایم ایف نے پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخی سطح تک پہنچ جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، عالمی مالیاتی فنڈ کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ جی ڈی پی کے 9.2فیصد یعنی 40 کھرب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔گزشتہ روز جاری کی جانے والی رپورٹ بعنوان مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیاء ریجنل اکنامک آؤٹ لک کے مطابق کرونا کی وبا سے پہلے بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی کے 7.3فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا جو اب 9.2 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔اعدادوشمار میں خسارے کا حجم 40 کھرب روپے ہے جو پچھلے تخمینے سے 8کھرب روپے زائد ہے، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دے کیوں کہ اس شعبے میں کیے جانے والے اخراجات خطے میں سب سے کم ہیں۔آئی ایم ایف کے مطابق مہنگائی یا افراطِ زر کی شرح رواں برس 11.1فیصد اور آئندہ برس 8فیصد رہے گی۔ وزارت خزانہ کے مطابق ریونیو کو پہنچنے والے دھچکوں کے نتیجے میں خسارے میں اضافہ متوقع ہے کیوں کہ حکومت نے ابھی تک بجٹ اخراجات میں کسی اہم اضافے کا اعلان نہیں کیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں